To watch video
تاریخ انسانی میں کئی ایسی شخصیات ہو گزری ہیں جن کی فلسفیانہ زندگی انسانیت کو دنیا کی حقیقت سمجھانے میں
کچھ نہیں کر عالم شاعر صوفی الغرض جس نے بھی اس فانی دنیا کی حقیقت صحیح معنوں میں سمجھیں انسانی طبقے
کو راہ راست پر لانے کے مختلف شروع کردی اس شمار کیے جاتے ہیں
جو اپنی بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر عالم انسانیت میں امر ہو گئی
ان میں ایک نام صوفی بزرگ اور شاعر حضرت بابا بلھے شاہ کا بھی ہے آپ نے درس انسانیت کے اسباب کو جنم دیا
جس کی مثال دینا ممکن نہیں نہیں شاعرانہ مزاج کی بدولت آپ کے ذریعے عام انسانوں تک پہنچائے جن پر عمل کرتے ہوئے
انسان اپنے آپ کے قابل ہوجاتا ہے آپ میری میرینا کر بندیا نہ تیری نہ میری چار دناں دا میلہ دنیا فیر مٹی دی ڈھیری
چل کر ایک نظر حضرت علی شاہ کی زندگی پر ڈالتےہیں ویسے انسان کو انسانیت آزادی اور محبت سے روشناس کرایا
ویسے کائناتی انسان تھے جنہوں نے عشق کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھ
ا اپنی ذات اور خوفناک کرتے ہوئے بلھے شاہ نے صرف انسانیت کا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا
بابابلےشاہ بہاولپور کے علاقے شریف میں پیدا ہوۓ
معاشی حالات کچھ اچھے نہ تھے لیکن بچپن سے ہی وہ درویش صفت انسان تھے
یہ درویشی ت ساری زندگی ان کے ساتھ ان کلام رہی بلھے شاہ کے اندر کی دنیا کی سب سے بڑی خ ہانیہ سے متعین تھے
ہر وقت ان کے اندر کی دنیا میں رقص و سرور کی روشنی پھوٹتی رہتی تھی
اس لیے وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے باغی اور انقلابی کہلائے شعورکی منزلیں طے کرتے ہوئے
پہنچے تو آپ تعلیم و تدریس کے لیے قصور آگئے اس وقت سخت گیر اور انتہا پسند حکمران اورنگزیب عالمگیر کا دور دورہ تھا
ابتدائی تعلیم حاصل کی قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھیں
اور منطق نہ وانی ان سے قدوری شرح وقایہ صدقہ اور پھل تو وہ بھی بڑا مرشد کی حیثیت سے حضرت شاہ عنایت کے ساتھ آپ
کا جرم آویزش تک قائم رہا وہ آپ کے وحدت الوجودی تھے اس لیے ہر شہر کو مدنظر رکھنا جانتے تھے
مرشد کے لئے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے مثلا اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی
ظاہر پسند نہیں پر تنقید وطنہ محمد آپ کی شاعری کا پرس پسندیدہ جزر ہاں آپ کی شاعری میشن
عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور آپ کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق ساتھ ہوتی ہیں سامنے آتا ہے اپنے صوفیانہ کلام سے لاکھوں
انسانوں کو ہدایت بخشی حضرت بابا کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا آپ کا تعلق سادات گھرانے سے تھا
تاہم حضرت سید بلھے شاہ کو اپنے سید ہونے کا کوئی غرور نہیں تھا آپ نہایت شریف النفس انسان تھے آپ انسانیت کے قائل تھے
اور تمام مخلوق خدا کو یکساں اور برابر سمجھتے تھے آپ کی تصانیف کا مجموعہ جو قانون عشق کے نام سے مشہور ہے
میں پنجابی زبان میں اپنے شاعرانہ الفاظ کا چناؤ اس خوبصورتی
سے کیا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے عشق کرتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ آپ کی ایک ایک بات سچی اور حق پر مبنی ہے
آپ کا کلام عاشقوں کے دلوں کا سرور عارفوں صوفیائے کرام
کی آنکھوں کے لئے تھنگ اور رو رہے آپ نے اپنے کلام میں انسانی اقدار کا سبق دیا ہے آپ کا نظریہ تھا کہ جس کے
عمال اچھے وہی مقبول ہیں ارباب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے کلام بلند مقام میں مسئلہ توحید بیان فرما کر مردہ دلوں کو زندہ کردیا ہے
آپ سے پاکستان اور ہندوستان مالامال ہے روایات میں آیا ہے کہ بلھے شاہ کے دور میں برصغیر پر اورنگزیب
عالمگیر راج کرتا تھا اورنگزیب عالمگیر کی جس نے تخت و تاج کی خاطر بھائیوں کو سازش سے نوازا اور باپ کو قید میں ڈال دیا تھ
ا یہ خبر ونشان تک پہنچی تو انہوں نے شاعرانہ انداز میں بادشاہ کو پیغامات جوان ایک طرف انا پرست متاثر
ہوکر ان کی حکومت اور دوسری طرف آنا کا دشمن وہ لیشن بادشاہ کا گند اور بابا بلھے شاہ کی فلسفیانہ ہے
آیات آمنے سامنے آچکی تھی اورنگزیب عالمگیر قتل و غارت کو جنم دینے کی کوشش کرتا
دوسری طرف ایک ایسا انسان موجود تھ
ا جو اپنی ذات کی نفی کر چکا تھا کائنات کے
سارے رنگ اس کی زندگی میں جھلک رہے تھے بابا بھلے شاہ زیب عالمگیر کے دور کے چشم دید گواہ تھے اس لیے فطری اور
ملا ان کے خلاف فتوے دے رہے تھے
انہیں کافر تک قرار دیا گیا جبکہ بعض افراد ان کی شاعری میں استعمال کردہ لفظوں کی بنا پر بھی کافر قرار دیتے تھے
ہر طرف افراتفری تھی مغل سکھوں کا قتل عام کر رہے تھے
اور سکولوں کو مار رہے تھے بلھے شاہ نے صوفیانہ شاعری
کے ذریعے اورنگزیب عالمگیر کی حکمرانی کو چیلنج کرتی ہے انہیں ملک بدر کیا جائے کبھی اپنے
جوبن پر تھا آپ کو خیر باد کہہ کر لاہور آ گئے
اور عوام کو عشق عزا شادی امن انسانیت اور محبت کا درس دینا شروع کر دیا رانی یہ بتاؤ تھا جب
الشان ریاست کے حکمران اور ٹھیکیداروں کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی
اب ایک طرف اس دور کے انتہا پسند تھے
اور دوسری طرف انسانیت سے مزین تصوف کا راستہ تھا جس سے حکمران اور انتہا پسند افسانہ تھے لاہور کے
بعد گوالیار کا رخ کیا وہاں عمر رقص سنگیت اورراگ رنگ کی تربیت حاصل کی اس سے اپنے مرشد کو بنایا جیسے وہ کہتے ہیں کہ کنجری بڑیا ں میری عزت نہ گھٹدی میکوں نچ کے یار مناون دے اصل میں بھلے شاہ کے اس کلام کے یہ معنی ہیں کہ کوئی کمتر نہیں ہوتا کیونکہ طوائفوں کو ناچنے گانے
والوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے انہیں مراثی کہا جاتا ہے اور ان سے نفرت کی جاتی ہے تو بابا بولیشاہ ہم سب کی آواز بن گئے
اور کہا کہ کوئی انسان بڑا چھوٹا عنوان ریاست اور اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف تھے
اس وقت کے مفتیان نے فتوی دیا کہ یہ بندہ گستاخانہ اور کافرانہ شیر کہتا ہے
اس لئے اسے سخت سزا دی جائے اس لئے بلھے شاہ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اب ایک بندہ شہر شہر گھوم رہا ہے
رقص کر رہا ہے سنگیت کا عشق ہے انسانیت پرست ہے اور کہہ رہا ہے
یہ رانجھا رانجھا کردی آپے رانجھا ہوئی ایسے شخص کو کیسے ریاست اور اس کے طاقتور ہلکی آزادی اور بے
باکی سے زندہ رہنے دے سکتے تھے وہ آپ کو پہچان چکا تھا جس میں خود پر یقین کرلیا تھا
جس نے اپنا انفرادی سچ پا لیا تھا اور اب وہ یہ سچ شیئر کر رہا تھا یہ صاب ریاست کے ٹھیکیداروں کے اقتدار کے لئے خطرناک تھا
اس لئے سب کے سب طاقتور بابا بلھے شاہ کے دشمن بن گئے
اردو نقوی کے معزز دوستوں اس وقت لوگوں کی سمجھ میں آرہا تھا ایک درویش ایسا ہے
جو مختلف بات کرتا ہے جو کہ رہا ہے کہ پڑھ رہا تھا کہ لوگو اپنے آپ کو جانو وہ غلطیوں کے خلاف بات کر رہا تھا
ان کے اصولوں اور ضابطوں پر سوال اٹھا رہا تھا عشق اس کی طاقت تھی
اور اسے مارنا مشکل تھا اس لیے وہ ان کے مقابلہ کرتا گیا وہ بولے شاہ اپنی شاعری میں آپ مذہبی ضابطوں پر تنقید نہیں کرتے
بلکہ ترقی دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کرنے
کو وبال جان قرار دیتے ہیں علم کی مخالفت اصل میں علم بغیر عمل کی مخالفت ہے اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے
کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف ردعمل ہیں آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ کیونکہ نہ کالونی خانہ جنگی انتشار
اور افغان تارا آزماؤں کے وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا اس نے اس کا گہرا اثر آپ کے افکار پر پڑا ہے
آپ کی شاعری میں صلح انسان دوستی اور عالم غمگین محبت کا جو درس ملتا ہے
وہ اسی معروضی صورتحال کے خلاف ردعمل ہے
بابا بلھے شاہ کے شہر قصور بابا جی کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہیں اس شہر کی مٹی میں بولیشاہ یہ کہتے ہوئے
اپنی قبر میں کتے کہ بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی اور یہ نہ بھولنا میں نے مرنا نہیں ہے
قبر میں کوئی اور پڑا ہوا ہے ایک اور جگہ بابا جی فرماتے ہیں بندے نے کمایا نے یا نہ بھولے شاہ وہ
لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے زندگی میں نیکیاں کمائیں بھائی بولے شاہ کا انتقال 1857 میں تصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے
آپ کے مزار پر آج تک عقید ت مند ہر سال آپ کی صوفیانہ شاعری کی عظمت کے گن گا کر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں